Voice of Peace

Latest Issue of Pakhtoon

Archive
-
July, 2011
-
May, 2011
-
April, 2011
-
March, 2011
-
February, 2011
-
January, 2011
-
December, 2010
-
November, 2010
-
October, 2010
-
September, 2010
-
August, 2010
-
July, 2010
-
June, 2010
-
May, 2010
-
April, 2010
|
|
News -
Party News
|
|
Thursday, 26 January 2012 |
|
PESHAWAR: President of Awami National Party Asfandyar Wali Khan Thursday said
that no one should expect from his party that it would support any undemocratic
and unconstitutional move to dislodge the democratically elected government as
"Parliament is mother of all institutions".
Addressing a public meeting held in connection with the 24th death anniversary
of Baacha Khan and 6th death anniversary of Rehbr-e-Tehrik Khan Abdul Wali Khan
held here at Tehmas Khan Stadium, the ANP President said that all the state
institutions derived strength from the parliament, adding the constitution of
the country clearly defined powers and functions of each and every state organ.
"We will not allow any institution to interfere in the affairs of others," he
said, adding "we all have to accept this reality that parliament was the base of
state institutions". |
|
Read more...
|
|
News -
Party News
|
|
Thursday, 26 January 2012 |
 Central President of the party Asfandyar Wali Khan addressing party workers in Peshawar
عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیارولی خان نے کہا ہے
کہ ہم نے نہ تو کبھی آمرانہ قوتوں کا ساتھ دیا ہے اور نہ ہی کوئی ہم سے یہ توقع
رکھے تمام اداروں کو اپنے دائرہ اختیار کے اندر رہتے ہوئے ہی کام کرنا چاہیے ۔باچا
خان اورعبدالولی خان لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیںاورہمیشہ زندہ رہیں گے ۔ اپنی
سرزمین پر امن قائم کرنااے این پی کی اگلی منزل ہے ۔ وہ جمعرات کے روز طہماس خان فٹ
بال سٹیڈیم پشاور میں خدائی خدمت گار باچاخان اور اے این پی کے رہبر تحریک ولی خان
کی مشترکہ برسی کے موقع پر جلسہ سے خطاب کررہے تھے جس میں وزیراعلیٰ امیر حیدر
ہوتی، اے این پی کے صوبائی صدر افراسیاب خٹک ، وفاقی وصوبائی وزراء، اراکین
پارلیمنٹ اور اراکین صوبائی اسمبلی نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔
اسفندیارولی خان نے کہا کہ آج کہا جاتا ہے کہ ہمیں
پرائی جنگ میں دھکیلا گیا ہے جبکہ ولی خان 80ءکی دہائی میں یہ بات کرتے تھے جس پر
کوئی انھیں روس اور بھارت کا ایجنٹ کہتا اور کوئی وطن دشمن اور غدار لیکن وقت نے
ثابت کیا کہ ان کا موقف درست تھا کیونکہ جب دوسروں کے گھر بم بھیجے جائیں تو وہاں
سے گلدستے تونہیں آئیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ولی خان اور باچاخان کو ہماری نصابی
کتب سے تو نکال دیا گیا لیکن وہ لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں اورہمیشہ زندہ رہیں گے
۔ انہوں نے کہا کہ آج بہت سے لوگ یہ بدگمانیاں پھیلا رہے ہیں کہ جمہوری نظام ختم
ہونے والا ہے لیکن ہم کسی بھی ادارہ کو یہ اجازت نہیں دےں گے کہ وہ اپنی حدود کو
پھلانگے۔ لیکن ہم تمام اداروں کی بنیاد پارلیمنٹ کے اختیارات پر کوئی سمجھوتہ نہیں
کرسکتے اورہماری خواہش ہے کہ جو اونٹ چل رہا ہے وہ کسی کروٹ بیٹھنے کی بجائے چلتا
ہی رہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہم قبائلی علاقہ جات میں ہونے والی
اصلاحات کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن یہیں پر ٹھہر نہیں جانا چاہیے بلکہ اس سے آگے
بڑھنا چاہیے اسی لیے ہم نے یہ سال 2012ءقبائلی علاقہ جات کے سال کے طور پر منانے کا
فیصلہ کیا ہے جس کے حوالے سے مختلف پروگرام اور تقریبات کے انعقاد کا سلسلہ جاری
رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری یہ پالیسی ہے کہ قبائلی علاقہ جات ہمارے ساتھ
خیبرپختونخوا میں شامل ہوجائیں لیکن ہم زبردستی نہیں کریں گے کیونکہ یہ اختیار کسی
اور کا نہیں بلکہ خود قبائلی عوام کا ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ انہون نے اپنی موجود
حیثیت ہی میں رہنا ہے یا ہمارے ساتھ شامل ہونا ہے اور ہمیں ان کا ہر فیصلہ قبول
ہوگا ۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے مولانا صوفی محمد اور فضل اللہ
کے ساتھ بات کی تو ہم ہر کسی کے ساتھ بات کرنے کے لیے تیار ہیں اور ہمیں یہ معلوم
ہے کہ پختون کے لیے بندوق رکھنا مشکل ہوگا اس لیے اگر عسکریت پسند ہتھیار نہیں
رکھتے تب بھی ہم ان کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن انھیں دہشت گردی کی مذمت
بھی کرنی پڑے گی اور حکومتی رٹ کو بھی تسلیم کرنا ہوگا اور یہ یقین دہانی بھی کرانی
ہوگی کہ پاکستان کی سرزمین اندرون ملک یا کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے حوالے
سے استعمال نہیں ہوگی ورنہ ہم نے اب تک تشدد کا راستہ عدم تشدد کے ذریعے روکا اور
ہم اپنی پالیسی پر کاربند رہیں گے، میرے خون سے اگر امن قائم ہوتا ہے تو میں اپنا
سردینے کے لیے بھی تیار ہوں لیکن ہم اپنی سرزمین پر امن قائم کرنا چاہتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ یہ ولی خان کا خواب اور وصیت تھی کہ
ہماری سرزمین کو اپنی پہچان ملے، اپنے وسائل پر ہمارا اختیار ہو اور کالاباغ ڈیم کی
تعمیر کسی بھی صورت نہ ہونے پائے اور ہم نے ان کے یہ تینوں خواب پورے کیے ، صوبہ کو
پختونخوا کا نام دلایا ،اٹھارویں ترمیم کے ذریعے اپنے وسائل پر اپنا اختیار حاصل
کیا اور کالاباغ ڈیم کا مردہ ہمیشہ کے لیے دفن کردیا لیکن ان کا ایک خواب پورا ہونا
ابھی باقی ہے جو اس سرزمین پر امن کا قیام ہے اوراب ہم پختونوں کی بقاءکی جنگ کریں
گے جس میں ہم کامیاب بھی رہیں گے اور امن بھی قائم کریں گے ۔انہوںنے کہا کہ باچاخان
اور ولی خان تاریخ ساز شخصیات تھیں جنھیں تاریخ اورقوم ہمیشہ یاد رکھے گی کیونکہ وہ
ایسی شخصیات ہیں جنھیں بھلایا نہیں جاسکتا۔انہوں نے اس موقع پر وزیراعلیٰ امیر حیدر
ہوتی اور سینئر وزیر بشیر بلور کو خراج تحسین پیش کیا جنہوںنے تعلیم کے میدان میں
کامیابیاں حاصل کیں اور اپنے صوبہ کے حقوق کے حصول کے لیے بھرپور جدوجہد کی ۔انہوںنے
تالیوں کی گونج میں اعلان کیاکہ آج سے پشوعرائیرپورٹ کانام باچہ خان انٹرنیشنل
ائیرپورٹ رکھ دیاگیاہے جو اے این پی کی ایک کامیابی ہے ۔
دریں اثناء عوامی نیشنل پارٹی کے مرکز ی و صوبائی قائدین نے طہماس خان سٹیڈیم میں فخر
افغان باچاخانؒ او ر رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی برسی کے کامیاب جلسہ کے بعد
ولی باغ جا کرر رہبر تحریک خان عبدالولی خان کے مزار پر حاضری دی ‘ پھولوں کی چادر
چڑھائی اور عظیم ہستی کے بلندی ¿ درجات کےلئے فاتحہ خوانی بھی کی ‘
صوبائی صدر سنیٹرافراسیاب خٹک کے ہمراہ وفاقی وزیر ریلوے حاجی غلام احمد بلور ‘ صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار
حسین ‘ صوبائی سینئر وزیر بشیر احمد بلور ‘ اے این پی کے مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری
جنرل تاج الدین خان ‘ صوبائی جائنٹ سیکرٹری ایمل ولی خان اور دیگر مرکزی و صوبائی
قائد ین بھی موجود تھے ‘
بعد ازاں عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفندیار ولی خان نے پشاور ائر پورٹ کو فخر
افغان باچاخانؒ کے نام سے منسوب کرنے کی خوشی میں کیک کاٹا |
|
|
News -
Party News
|
|
Wednesday, 25 January 2012 |
 Peshawar: MNAs hailing from FATA were called on Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Ameer Haidar Khan Hoti here at CM house on Wednesday.
ANP Provincial President Senator Afraseyab Khattak, Senator Haji Adeel,
Senior Provincial Minister Bashir Ahmad Bilour, Provincial Information Minister
Mian Iftekhar Hussain, ANP Provincial General Secetary Arbab Muhammad Tahir and
Taj ud Din Khan were also present on the occasion. Matters of mutual interests
remained under discussion on the occasion. The delegation comprised of Engineer
Shaukat Ullah, Munir Khan Orakzai, Jawad Hussain, Syed Sajid Hussain Tori,
Muhammad Kamran Khan, Maulana Noor ul Haq Qadri, Abdul Malik Wazir, Zafar Baig
Bithani and Syed Akhunzada. Later on the participants took part in the lunch
offered by the CM. |
|
|
News -
Party News
|
|
Wednesday, 25 January 2012 |
|
پشاور، سابق سینیٹر اور معروف دانشور بشیر مٹہ نے
سینکڑوں ساتھیوں کے ہمراہ عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا ہے ، اس
سلسلے میں ایک سادہ مگر پروقار تقریب وزیر اعلیٰ ہاﺅس میں عوامی نیشنل پارٹی ضلع
چارسدہ کے صدر خالد خان کی زیر صدارت منعقد ہوئی جس میں عوامی نیشنل پارٹی کے قائد
اسفندیار ولی خان، مرکزی سینئر نائب صدر سینیٹر حاجی محمد عدیل، صوبائی صدر سینیٹر
افراسیاب خٹک، جنرل سیکرٹری ارباب محمد طاہرخان خلیل، صوبائی سیکرٹری اطلاعات ملک
غلام مصطفی، مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل تاج الدین خان، صوبائی نائب صدور میاں
مشتاق، حمید الرحمان محمدزئی، میاں سیدلائق باچا، صوبائی وزراءمیاں افتخار حسین،
ایوب اشاڑے، واجد علی خان اور چارسدہ سے سینکڑوں کی تعداد میں کارکنوں اور بشیر مٹہ
کے ساتھیوں نے شرکت کی ۔
 سابق سینیٹر بشیر مٹہ نے اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی
میں ساتھیوں سمیت شمولیت کا باضابطہ اعلان کیا اور کہا کہ اے این پی کے کارناموں
خصوصاً صوبے کی نام کی تبدیلی، صوبائی خودمختاری کے حصول اور متفقہ این ایف سی
ایوارڈ جیسے اقدامات سے متاثر ہوکر اے این پی میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے، انہوں نے
کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کی سیاست کی مثال ایک سمندرکی طرح ہے اورخطے کی موجودہ
صورتحال میں پختونوں کے نام پر سیاست کرنےو الوں کا فرض ہے کہ خطے میں قیام امن اور
خوشحالی و ترقی کے لئے عوامی نیشنل پارٹی کے سرخ جھنڈے تلے پارٹی قائد اسفندیار ولی
خان کی قیادت میں متحد ہوجائیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے
صوبائی صدر سینیٹر افراسیاب خٹک نے بشیر مٹہ کی پارٹی میں شمولیت کو خوش آئند قرار
دیا اور انہیں خوش آمدید کہا، افراسیاب خٹک نے کہا کہ بشیر مٹہ جیسے دانشور اور
ملکی و بین الاقوامی سیاست کا وسیع مطالعہ و مشاہدہ رکھنے والے دانشور کی پارٹی میں
شمولیت موجودہ حالات میں پارٹی کی پالیسیوں پر دانشور طبقے کے اعتماد کا مظہر ہے ،
انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ بشیر مٹہ پختون قوم کی ترقی و خوشحالی کے لئے
اپنی بھرپور صلاحیتوں کااستعمال کرینگے ۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے عوامی نیشنل پا رٹی کے قائد
اسفندیار ولی خان نے کہا کہ بشیر مٹہ ہمارے پرانے ساتھی ہیں اور ان کی پختون قوم
کےلئے بیش بہا قربانیاں ہیں ، ایک ایسے وقت میں جب پختون قوم کو ان کی ضرورت پڑی تو
انہوں نے فارن آفس کی ملازمت پر پختون قوم کے مفاد کو ترجیح دی اور ملازمت چھوڑ کر
پختون قوم کے حقو ق کےلئے خدائی خدمتگار تحریک کی تسلسل عوامی نیشنل پارٹی میں
شمولیت اختیار کرکے پختون قوم کے حقوق کےلئے جدوجہد کی ، انہوں نے کہا کہ ایک
دانشور کی حیثیت میں موجودہ دور میں ان کی پارٹی میں شمولیت پختونوں کی ترقی کےلئے
اے این پی کی جدوجہد کے اعتراف کے مترادف ہے ، پارٹی کے موجودہ آئین کی تیاری میں
بھی بشیر مٹہ کا اہم کردار رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ باچاخانؒ نے سو سال قبل جو
راستہ دکھایا تھا ہم اسی پر گامزن ہیں اور باچاخانؒ اور ولی خان کے ان ارمانوں کو
کافی حد تک پورا کردیا گیا ہے جن کے لئے دونوں عظیم قائدین نے قید و بند اور
جلاوطنی کی صعوبتیں برداشت کیں ، صوبے کے نام کی بحالی اور کالاباغ ڈیم کے پختون
دشمن منصوبے کے خاتمے کے اقدامات سے باچا خانؒ ا ور ولی خان کی روحوں کو بھی سکون
ملا ہوگا،پختون قوم کی ترقی کےلئے جتنے بھی اقدامات موجودہ دور حکومت میں کئے گئے
ہیں ان کی مثال ماضی میں نہیں ملتی اور ان تمام اقدامات کا سہرا موجودہ منتخب
جمہوری حکومت کے سر ہے ،لیکن اب بھی مزید اقدامات کی گنجائش موجود ہے ، انہوں نے
بشیر مٹہ کی عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت پر اظہارمسرت کیا اور بشیر مٹہ کو مرکزی
ورکنگ کمیٹی کی رکنیت کےلئے بھی نامزد کرنے کا۔ |
|
| | << Start < Prev 1 2 3 4 5 6 7 8 9 Next > End >>
| | Results 1 - 9 of 75 |
|
|